10212017Headline:

What is going to be happened on 23 September 2017 –

ستمبر23 2017 کو کیا ہونے والا ہے؟ کیا کوئی گم نام سیارہ زمین سے ٹکرا جائے گا؟ کیا کوئی خلائی مخلوق زمین پر حملہ آور ہوگی؟ یا پھر تیسری جنگ عظیم کا آغاز ہوگا؟ یہ سب وہ سوالات ہیں جو آج کل سوشل میڈیا پر بادشاہ بن کر گھوم رہے ہیں۔ ہر کسی کے دل میں ڈر اور ماتھے پر بَل نظر آتے ہیں۔

سب سے پہلے تو میں یہ بتاتا چلوں کہ یہ سب باتیں محض ’افواہ‘ کا درجہ رکھتی ہیں اور ان میں رتّی بھر بھی حقیقت نہیں۔ دراصل یورپی تاریخ میں سال کے دو مہینے ’ستمبر‘ اور ’دسمبر‘ کو قدرِ مشکوک سمجھا جاتا ہے۔ ان مہینوں سے جڑا یہ ڈر ایک لمبے عرصے سے پایا جاتا تھا لیکن ہولی وڈ فلموں نے اس کو اور زیادہ ہوا دی جس سے یہ لوگوں کے لیئے پتھر پر لکیر ہوگیا۔ یورپ شروع سے ہی توہمات اور اثرات کی نظر رہا ہے جو نسل در نسل چلتی رہی لیکن اب ان لوگوں نے بہت سی باتوں سے پیچھا چھڑا لیا ہے البتہ کچھ تذکرے اس قدر ڈھیٹ ہوتے ہیں کہ سالوں بعد بھی ان کو ذرا سی ہوا دی جائے تو اس سے جڑا وہی ڈر پھر سے سر اٹھا لیتا ہے۔

2012 میں کچھ نامعقول افراد نے یہ افواہ اڑائی تھی کہ سورج میں کچھ ایسی ہلچل ہوں گی جو پہلے کبھی بھی نہیں ہوئیں، اس کا مطلب کہ “یہ دنیا 12 دسمبر 2012 کو تباہ ہو جائے گی”۔ ابھی یہ افواہ جنگل میں لگی آگ کی طرح پھیلی ہی تھی کہ اس پر ایک ہولی وڈ فلم بھی تیار کر لی گئی جس میں گرافکس کی دلچسپ ایڈیٹنگ کی مدد سے دسمبر 2012 میں ہونے والی تباہی کی متوقع منظر کشی دکھائی گئی۔ اب دنیا بھر کے لوگ یہ افواہ سننے اور یہ فلم دیکھنے کے بعد یوں سمجھنے لگ گئے کہ وہ اس دنیا میں اپنی زندگی کے آخری دن گزار رہے ہیں۔ بس دسمبر سے پہلے کے جتنے بھی دن باقی تھے، لوگوں نے انہیں قبل ازموت سمجھ کر وہ کارنامے سرانجام دیے جن سے بڑی جاہلانہ حرکات کا ثبوت تاریخ میں نہیں ملتا۔ پر آج 2017 ہے اور الحمدللّلہ آج تک دنیا تباہ نہیں ہوئی جس کی پیش گوئی 2012 میں کی گئی تھی۔ یوں سمجھ لیں کہ اگر کسی افواہ کو مقبول کرنا ہو تو افواہ کاروں کے لئے ستمبر اور دسمبر کے مہینے موزوں ہوتے ہیں۔

اس سال بھی 23 ستمبر کے بارے میں کچھ ایسی ہی افواہیں سامنے آئی ہیں۔ اگرچہ ہر مہینے کے آغاز میں ناسا اور دوسری فلکیاتی ویب سائٹس پورے مہینے میں پیش آنے والے فلکیاتی حالات و واقعات سے آگاہ کرتیں ہیں۔

ستمبر 2017 میں ورگو نامی کونسٹلیشن میں کچھ اہم حرکات رونما ہوں گی لیکن ان کا رونما ہونا کوئی نئی بات نہیں کیونکہ یہ سال کے دوسرے مہینوں میں بھی پیش آتی رہتی ہیں۔ لیکن ستمبر میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کو اس طرح دنیا کے سامنے پیش کیا جارہا ہے جیسے امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے بھی اس تباہی کی تصدیق کردی ہو، حالانکہ ناسا تو ہر ماہ کے پہلے ہفتے میں اس ماہ کی خبریں نشر کرتا ہے۔

دراصل اس بات کا تعلق عیسایوں کی مقدّس کتاب ’انجیل‘ یعنی ’بائبل‘ سے ہے۔ اس کتاب کی بارہویں سورت ’ریویلشن‘ میں کچھ خدائی باتیں لکھیں ہیں جن کا مفہوم یوں ہے کہ ’جب ایک عورت سورج کے لباس میں ہوگی، اور اس کے پیروں تلے چاند ہوگا۔ اس کے سر پر بارہ ستاروں کا تاج ہوگا اور اس وقت وہ عورت حاملہ ہوگی جو ایک بچے کو جنم دینے کے لئے درد سے چِلّا رہی ہوگی اور وہ بچہ پوری دنیا کی بادشاہت سنبھالے گا‘۔

جب سے علمِ فلکیات کا آغاز ہوا ہے، سائنسدانوں نے ستاروں کے پیٹرنز کو جوڑ کر کچھ خیالی مجسمے اپنی آسانی کے لئے تصور کر لئے۔ انہیں ’ستاروں کے جھمکے یا بُرّج‘ یعنی کونسٹلیشن کہتے ہیں۔ پورے سال میں سورج جن بُرّجوں کے سامنے سفر کرتا ہے، ان کے مختلف نام رکھے گئے ہیں۔ 23 ستمبر 2017 کو ورگو نامی بُرّج میں سورج موجود ہوگا۔ ورگو کا مجسمہ ایک عورت کا ہے۔ اور سورج کی اس بُرّج میں موجودگی اس کتاب میں لکھی بات کے مطابق ہے کہ ’اس عورت نے سورج کا لباس پہنا ہوگا‘، اس کے بعد اسی رات چاند عورت کے پیروں کی طرف ہوگا اس لئے یہ واقعہ بھی اس بات کی حمایت معلوم ہوتا ہے کہ ’اور اس کے پیروں تَلے چاند ہوگا‘۔ مزید براں، سنبلہ بُرّج کے سر کی طرف ’لیو‘ یعنی اسد نامی بُرّج ہے جس میں ظاہری نو ستارے ہیں اور اس سال تین سیارے، جن میں زہرہ، مریخ اور عطارد شامل ہیں، بھی اسی بُرّج میں موجود ہوں گے۔ اس طرح کُل بارہ ستارے نظر آئیں گے یعنی ’اس کے سر پر بارہ ستاروں کا تاج ہوگا‘۔

اس کے ساتھ مشتری بھی اس مہینے یہاں (عورت کے درمیانی پیٹ کے حصّے میں) موجود ہوگا۔ اور اگلے چند مہینوں میں یہ سیارہ مشرق کی طرف یعنی اس عورت کے پیروں کی طرف جاتا ہوا نظر آئے گا۔ چونکہ مشتری نظامِ شمسی کے تمام سیاروں میں سب سے بڑا سیارہ ہے اور ’سیاروں کا بادشاہ‘ سمجھا جاتا ہے اس لئے اس چیز کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

ایک اور سازشی نظریے کے مطابق اس دن ایک ’پلانٹ x‘ نامی کوئی سیارہ زمین سے ٹکرائے گا اور زمین پر موجود انسانوں کو اُسی طرح ختم کردے گا جیسے پہلے ڈائناسور ختم ہوئے تھے۔

فلکیاتی لحاظ سے یہ سورج کا ورگو کے بُرّج میں آنا، چاند کا یوں اس عورت کے مجسمے کے پیروں کی طرف ہونا اور باقی سیاروں کا بھی اس طرح ایک سیدھ میں آنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔

سورج پورے آسمان کا چکر تقریباً ایک سال کے عرصے میں لگاتا ہے یعنی ہر سال ستمبر کے مہینے میں سورج ورگو کے مجسمے میں ہی پایا جاتا رہا ہے۔ اسی طرح چاند ہر مہینے یہ چکر لگاتا ہے یعنی ہر مہینے اِس بُرّج سے گزرتا ہے۔ اور ستمبر کے مہینے میں (جب سورج ورگو میں موجود ہوگا) کسی ایک دن چاند اس عورت کے پیروں میں آئے گا۔

رہی بات مشتری کے اِس بُرّج میں موجود ہونے کی تو میں بتاتا چلوں کہ مشتری آسمان میں ایک چکر تقریباً گیارہ سالوں میں مکمل کرتا ہے یعنی کہ آج سے گیارہ یا بارہ سال پہلے 2005 میں بھی یہ سیارہ ورگو میں ہی موجود تھا اور آج بھی اسی میں موجود ہے۔

مزید یہ کہ “لیو” بُرّجِ اسد میں نو واضح ستارے موجود ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو ضروری نہیں کہ یہ عدد نو ہی ہو، کیونکہ باقی ستاروں کو مِلایا جائے تو یہ عدد دس یا اس سے زیادہ بن جائے گا۔ اس صورت میں اِس بُرّج میں کُل 13 یا اِس سے زیادہ ظاہری ستارے (10 ستارے اور 3 سیارے) ہوجائیں تو ’بارہ ستاروں‘ والی پیشن گوئی غلط ثابت ہوجائے گی۔

اس کے علاوہ سازشی نظریوں اور اس طرح کی افواہیں پھیلانے والوں نے اپنی بات میں دم پیدا کرنے کے لئے اپنی طرف سے یہ بات بھی بیچ میں شامل کردی ہے کہ ایسا آسمانی واقعہ 7 ہزار سالوں میں ایک دفعہ دیکھنے کو ملتا ہے اور یہ خدا کے کسی مجزے سے کم نہیں۔ حالانکہ اگر فلکیاتی سافٹ ویئر کے استعمال سے اس بات کی تحقیق کی جائے تو باآسانی ان لوگوں کی بات کو غلط قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ اگر صرف پچھلے 10 سالوں کا ہی ریکارڈ دیکھ لیا جائے تو اس عرصے میں چار مرتبہ یہی ترتیب (کہ سورج ورگو عورت کے کندھے پر، چاند اس کے پیروں کی طرف، سیارہ مشتری اس کے درمیانی حصّے میں اور بارہ ستاروں کا تاج اس کے سر پر) دیکھی جاچکی ہے اور اس سال 23 ستمبر 2017 کو یہ واقعہ پانچویں بار پیش آئے گا۔ یہی ترتیب ستمبر ١٠٥٦ء، ستمبر ١٢٩٣ء، ستمبر ١٤٨٣ء اور ستمبر ١٨٢٧ء میں بھی دیکھی گئی تھی اور یقیناً تب بھی دنیا میں یہی افواہ پھیلائی گئی ہوگی کہ دنیا تباہ ہونے والی ہے!

یہ رپورٹ پیش کرنے کا مقصد آپ لوگوں کو اس امر سے آگاہ کرنا تھا کہ جس طرح 2012 میں دنیا کی تباہی کی افواہیں اڑائی جارہی تھیں اور پھر وہ سب دھری کی دھری رہ گئیں، اسی طرح یہ اب بھی محض افوہیں ہیں۔ یہ سب قدرت کے مناظر ہیں اور ہمیں چاہیے کہ ان کو دیکھ کر اس کے بنانے والے کی حمدوثناء کریں بجائے اس کے کہ اپنی کم علمی کے باعث عجیب و غریب افواہیں اڑانے میں مشغول ہوجائیں جوکہ سراسر جاہلیت ہے۔

ربِ کریم ہم سب کو ہدایت دے۔ آمین!

Copyright Disclaimer:
This information embed is sourced from Official page of the content producer. For any copyright claims or violation please refer to https://www.dawnnews.tv/

What Next?

Related Articles