05242017Headline:

اَب تیرا کیا ھوگا کالیا!!! محبوب اسلم

یہ ھے وہ سوال جو کل ایک نون لیگ کے سپوٹر نے مجھ سے کیا۔۔۔اُسکا اشارہ شایدآزاد کشمیر میں پی ٹی آئی کی بد ترین شکست کیطرف تھا۔۔۔لیکن وہ بھولا کیا جانتا تھا کہ پی ٹی آئی پر اصل قیامت تو ایک دن پہلے اسلام آباد کے مہنگے ترین ھوٹل میرئیٹ میں گذر چکی تھی۔۔۔ 

اُس سیاہ دن پارٹی پر قبضہ مافیا اور روایتی سیاست کی پیداوار ایک پیسے والے کا قبضہ مکمل ھوگیا۔۔۔جی ھاں یہ تبدیلی کی جماعت میرئیٹ ھوٹل میں اپنی عزت کا سستا سودا کروا چکی۔۔۔اور اسے بیچنے والا کوئی اور نہیں خود عمران خان تھا۔۔۔۔ 

یہ خریدار جہانگیر ترین گھاٹ گھاٹ کا پانی پی کر ھماری پارٹی پر نازل ھوا اور مشرف دور میں اس عوام کے پیسے پر ھاتھ صاف کرنے کے بعد اسکے پیٹ میں تبدیلی کا درد اُٹھا اور یہ ھمار متھے آلگا۔۔۔اُسوقت ھم نے دھائی دی تو عمران صاحب نے کہا جو بھی ھمار پارٹی میں آئیگا وہ ھمارے نظریے پر آئیگا۔۔۔اور ھمیں گیدڑ اور شیر کی لیڈرشپ کا فرق سمجھایا گیا!!! 

آج تین سال بعد۔۔۔یہ کرپٹ گیدڑ ھمارا لیڈر ھے اور ھم عمران شیر کیطرف دیکھ رھے ھیں۔۔۔اوہ معاف کیجئےگا عمران شیر تو اس گیدڑ کے ھیلی کاپٹر میں پھنسا ھوا ھے۔۔۔تو اب جا کرھماری عقل میں گیدڑ اور شیر کی لیڈرشپ کا فرق صاف ھوسکا۔۔۔بجلی سی کوندی آنکھوں کے سامنے اور چودہ طبق ایکساتھ روشن ھوگئے۔۔۔کیا بات ھے ۔۔۔لیکن واردات ھو جانے کے بعد طبق روشن ھوئے توکیا روشن ھوئے؟؟؟ 

مثال کے طور پر یہ گیدڑ۔۔۔ھمارے عمران شیر کی لیڈر شپ کے نیچے ھی دو دوسرے گیدڑوں بنام علیم خان او پرویز خٹک کیساتھ ملکر پارٹی کے الیکشن میں ووٹ خریدتا رھا۔۔۔اور ھمارا عمران شیر ھیلی کاپٹر پر ھی لٹکا رھا۔۔۔اور جب جسٹس وجہیدالدین نے عمران شیر کو اس گیدڑ کی چالاکیوں کی بابت بتایا تو ھم سب کو اُمید ھو چلی کہ اب گیدڑ کی شامت آئی لیکن ستیاناس ھو اس موئے ھیلی کاپٹر کا عمران شیر جب دھاڑا تو اُسکی آواز نکلی میاؤں۔۔۔میاؤں۔۔۔ 

یوں عمران شیر نے  جسٹس صاحب کو کیافارغ اور تبدیلی کیطرف دیکھتے ھوئے اپنی بائیں آنکھ دَبا دی۔۔۔وہ بیچاری کنفیوز کھڑی کبھی عمران کی میاؤں میاؤں سنے اور کبھی اس گیدڑ کی دھاڑ۔۔۔تبدیلی کو ذھنی مریض بنا دیا اس گیدڑ اور شیر نے ملکر۔۔۔شیر جو میاؤں میاؤں کرتا ھے۔۔۔اور گیدڑ جو دھاڑتا ھے!!! 

یہ گیدڑ دھاڑا کہ ھم آنے والے انتخابات میں وِننگ فارمولا لائینگے اور مضبوط اُمیدوار چُنے گے۔۔۔یعنی اَب پی ٹی آئی وھی پرانی ڈگر پر چلے گی اور پیسے والے آمیدوار میدان میں اُتارے گی۔۔۔یوں یہ عوامی پارٹی راتوں رات عوام کی دسترس سے نکل کر پیسے والی جماعت بن گئی۔۔۔اور ھمارا شیر لیڈر دیکھتے ھی دیکھتے۔۔۔ اپنی ساکھ کھونےلگا— 

یہانتک کہ گزشتہ روز میرئیٹ ھوٹل میں ”عوامی” ورکروں سے خطاب کرتے ھوئے عمران صاحب نے کھل کر نظریاتی ورکرز کو دھمکی دی کہ ان گیدڑوں کو اپنا لیڈر مانوں۔۔۔اور اگر نہیں تو پھر یا تو پارٹی چھوڑ دو یا اپنی علحیدہ پارٹی بنا لو!!!

واہ کیا کہنے ھیں میرے شیر لیڈر کے۔۔۔شیر بھائی آپ یہی شیر آسوقت بن جاتے جب اِن گیدڑوں کو پارٹی میں لیا جا رھا تھا۔۔۔اُسوقت تو آپ تاویلیں گھڑ رھے تھے کہ یہ گیدڑ ھمارے نظریے پر چلیں گے۔۔۔آپ ذرا اُسوقت یہ ھمت کر لیتے تو ھم نظریاتی کچھ فیصلہ اُسوقت کر لیتے۔۔۔نہیں اُسوقت آپ کو نظریاتی جنون کی ضرورت تھی پارٹی کو بنانے کیلیئے ۔۔۔اور آج جس پارٹی کو آپ اپنی جاگیرسمجھ رھے ھیں وہ ھم نظریاتی ورکرز کی دن رات کو کاوشوں کا نتیجہ ھے جسے آج آکر آپ احسان فراموشی کی مثال قائم کر رھے ھیں۔۔۔

دوسری طرف ان گیدڑوں کا وننگ فارمولا بری طرح ناکام ھوگیا۔۔۔یہ مضبوط اور پیسے والے امیدوار وھی گھسی پِٹی سیاست ھے جسکی نون لیگ ماھر ھے۔۔۔اور نتیجہ آزاد کشمیر میں آپ نے دیکھ لیا۔۔۔ھور چوپو۔۔۔ھور

اَب اِسپر طرّہ یہ ھے کہ اب ھم نواز شریف کا احتساب کریئنگے۔۔۔جی بلکل احتساب کریں نوازشریف کی کرپشن کا لیکن اپنے اِن کرپٹ گیدڑوں کو اپنے دائیں اور بائیں کھڑا نہ کریں۔۔۔وگرنہ آپ خود سے تو دھاڑے گے لیکن آواز آئےگی میاؤں میاؤں!!!

یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ھے کہ ھمارا ووٹر وہ طبقہ ھے جو موجودہ سیاسی نظام اور روایتی سیاستدانوں سے بیزارھے۔۔۔آپ نے تبدیلی کے نعرے پر اِن کو جمع کیا اور یہ خاموش اکثریت ووٹ دینے نکلی۔۔۔لیکن آپ نے اگلے ھی دن یہ کرپٹ ٹولہ اِن کے سر پر بیٹھا دیا۔۔۔یہ خاموش اکثریت پھر اپنے اپنے گھر چلی گئی—

اَب آخر میں عمران صاحب ھم نظریاتی ورکرز کے پاس ایک اور آپشن بھی ھے اور وہ ھے اپنی پارٹی اور نظریے کی حفاظت کرنا۔۔۔اَب ھم اِن گیدڑوں سے اِس کو بچائینگے بھی۔۔۔سوال اصل تو آپ سے بنتا ھے۔۔۔اَب تیرا کیا ھوگیا کالیا؟؟؟

What Next?

Related Articles